20۔ کیا خودکشی کے لئے حکم ہے؟

0
2505

20۔ کیا خودکشی کے لئے حکم ہے؟

آیت نمبر 2:54 کہتی ہے کہ موسیٰ نبی نے اپنی قوم سے کہا کہ تم اپنے آپ کو قتل کر ڈالو۔ 

بعض مفسرین کہتے ہیں کہ بچھڑے کی مورت کو معبود بنا نے کے جرم میں سزا کے طور پر موسیٰ نبی نے اپنی قوم کوخودکشی کرلینے کے لئے حکم دیا تھا۔ 

اپنی قوم کوتوحیدکے خلاف عمل پیرا ہو تے ہوئے دیکھ کر موسیٰ نبی غصہ سے بھر گئے۔ آیت نمبر 7:150 کہتی ہے کہ وہ غصہ اتنا سخت تھا کہ اپنے ہاتھوں میں جو تختیاں تھیں اس کو بھی نیچے گرادئے اور اپنے بھائی اور ہم عصر رسول ہارون کو کھینچ کر مارنے کی حد تک چلے گئے۔ 

اس طرح شدید غصہ کی حالت میں’’مر کے چلے جاؤ‘‘ کہنا انسان کی فطرت ہے ۔ یہ خیال کر تے ہوئے کوئی نہیں کہتا تم کو مرجانا چاہئے۔ غصہ کو ظاہر کر نے کے لئے ہی ایسا کہا جاتا ہے۔ 

موسیٰ نبی کے قول کو بھی ہم اسی طرح سمجھنا چاہئے۔ کیونکہ خود کشی کر نے کے لئے کوئی رسول کہہ سکتے نہیں۔ 

اسی سلسلہ میں یہ کہا گیا ہے کہ تمہاری موت کے بعد ہم نے تمہیں زندہ کیا۔ مفسرین کہتے ہیں کہ اس سے یہ بھی ثابت ہو جاتا ہے کہ ان لوگوں نے خودکشی کی تھی۔ 

لیکن یہ غلط ہے۔ 

آیت نمبر 2:54میں جو کہا گیا ہے کہ تم اپنے آپ کو قتل کر ڈالو، صرف اس پر غور کر نے کے بجائے اس کے بعد آنے والی دونوں آیتوں پر اگر غور کریں تو ہم جان سکتے ہیں کہ و ہ لوگ خود کشی نہیں کی۔ 

آیت نمبر 2:55میں کہا گیا ہے کہ ان لوگوں نے اللہ کو سامنے دکھا نے کے لئے کہا تو انہیں بجلی نے آپکڑا۔ 

آیت نمبر 2:56 میں کہا گیا ہے کہ مر نے کے بعد ہم نے تمہیں زندہ کیا۔

ان تینوں آیتوں پر غور کر نے سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ کو سامنے دیکھنے کے لئے انہوں نے مطالبہ کیا تو اللہ نے انہیں ایک سخت آواز سے وار کیا توتب وہ مرگئے۔

س کے بعد ہی کہا گیا کہ ہم نے انہیں زندہ کیا۔ 

اس سے یہ معلوم ہو تا ہے چونکہ وہ لوگ خود کشی کر کے مرے نہیں، بلکہ اللہ کو سامنے دکھانے کے لئے انہوں نے مطالبہ کیا تھاتووہ مارے گئے۔

பகிர்

பதிலளி

உங்கள் கருத்துகளை பதிவிடுங்கள்
உங்கள் பெயர்