19۔ سامری نے کس طرح معجزہ دکھایا؟ 

0
436

19۔ سامری نے کس طرح معجزہ دکھایا؟ 

موسیٰ نبی کے زمانے میں موجود سامری کے پاس جو معجزہ گھٹا اس کے بارے میں یہ آیتیں 2:51، 2:54، 2:92، 2:93، 4:153، 7:148، 7:149، 7:152، 20:85-98 کہتی ہیں۔

اللہ سے کتاب حاصل کر نے کے لئے کوہ طور پر موسیٰ بلائے گئے۔ جب موسیٰ کوہ طور کی طرف روانہ ہوئے تو ان کی قوم کا سامری نامی ایک شخص نے ان لوگوں کی زیورات حاصل کرکے پگھلاکر ایک بچھڑے کی شکل کی مورتی بنایا۔

موسیٰ نبی کی قدموں کی مٹی لے کر اس مورتی میں ڈالنے کے ساتھ اس مورتی سے ایک آواز نکلی۔آیت نمبر 20:96کہتی ہے کہ فوراً اس نے یہ کہہ کر کہ یہی معبود ہے، موسیٰ راہ بھٹک گئے، سامری نے ان لوگوں کو یقین دلایا اور اس مورتی کی پرستش شروع کروادی۔

انہیں اس بات پر یقین کر نے کے لئے معقول دلیل دکھائی دیا کہ اس مورتی سے جوآواز نکلی ، وہی معبود ہے ۔ ان کی سمجھ میں یہ بات نہیں آئی کہ وہ بات نہیں کرسکتی اور انہیں کسی بات کا جواب نہیں دے سکتی۔ قرآن کی اس آیتوں میں 20:89، 20:97تم دیکھ سکتے ہو کہ موسیٰ نبی نے اس مورت کو آگ میں جلا کر راکھ کر دیا اور اس راکھ کو سمندر پھینک کر ثابت کر دیا کہ وہ معبود نہیں ہے۔ 

ایسا نہیں سمجھ لینا کہ سامری اس طرح کر نے کی طاقت رکھتا تھا۔ 

ہم یہ بات کب کہہ سکتے ہیں کہ ایک شخص ایک کام کر نے کی صلاحیت رکھتا ہے؟ 

وہ جب بھی چاہیں اس کام کو کر دکھانا ہے۔ یا اس کام کو کئی بار کر دکھا نا ہے۔ ہمیں یقین ہے کہ دیاسلائی توڑنے کی طاقت ہر کسی کو ہے۔ ایک شخص جب بھی چاہے دیاسلائی توڑ کر دکھا سکتا ہے۔ ہزاروں میں ایک یا لاکھوں میں ایک ہوسکتا ہے وہ اللہ کی مصلحت سے چوک جائے۔ 

فرض کرو کہ ایک شخص سبل کو موڑتا ہے اور وہ دو ٹکڑے ہو جاتا ہے۔ ہم فوراً یہ فیصلہ نہیں کر یں گے کہ یہ سبل توڑنے کی طاقت رکھتا ہے۔ اور چند سبلوں کو دے کر کہیں گے کہ اس کو توڑ کر دکھاؤ۔ اگر وہ سب سبلوں کو توڑ کر دکھا دیا یا بہت سے سبلوں کو توڑ دیا تو اس وقت ہی ہم مانیں گے کہ وہ بہت طاقتور ہے۔

اگر وہ دوسرے سبلوں کو توڑنے سے قاصر رہا یا وہ توڑنے سے انکار کیا تو ہم سمجھیں گے کہ وہ جو ایک بار سبل توڑا وہ اس کی طاقت سے نہیں تھی۔ ہو سکتا ہے وہ سبل کچھ اندر سے ٹوٹا ہوا ہوگا یا اللہ نے اس سبل کو ٹوٹ جانے کی اجازت دی ہوگی، جب ہی وہ ٹوٹا ہوگا۔ حقیقتاً اس کو سبل توڑنے کی طاقت نہیں ہے۔ 

اگر ایسا کیا جائے تو ایسا ہوگا کے فن کے ذریعے کیا سامری نے منصوبہ بنا کر ویسا کیا تھا؟کیا وہ جب چاہے بچھڑے کی مورت بناکر اس میں سے آواز نکلوانے کی صلاحیت رکھتا تھا؟ یا اتفاقاً صرف ایک ہی بار ایسا ہوا تھا؟ 

دیکھو، اس کے بارے میں اللہ کس طرح واضح کر تا ہے۔

موسیٰ نے پوچھا ، اے سامری! تمہارا معاملہ کیا ہے؟ اس نے کہا کہ انہوں نے جو نہیں دیکھا تھا اس کو میں نے دیکھا۔ اس رسول کے نقش قدم سے ایک مٹھی اٹھائی ، اس کو اس میں ڈال دیا۔ میرے دل نے مجھے ایساہی ترغیب دلایا۔ موسیٰ نے کہا کہ تم چلے جاؤ۔ تیری زندگی میں تیرا یہی حال رہے گاکہ تم کہو گے مجھے مت چھونا۔تیرے لئے نہ ٹلنے والا ایک وعدے کا وقت ہے۔ جسے تو نے پرستش کی اس معبود کو دیکھ۔اس کو آگ میں جلا کر پھر اسے سمندر میں بکھیر دیں گے۔

(قرآن مجید 20:95,96,97) 

جب موسیٰ نبی نے پوچھا کہ کیا ہوا تو سامری نے ایسا نہیں کہا کہ مجھے اس طرح کی صلاحیت پہلے ہی سے ہے۔ بلکہ اس نے کہا کہ مورت بنا کر اس میں رسول کے قدموں کی مٹی ڈالنے کے لئے میرے دل نے مجھے ترغیب دلائی ، بس اتنا ہی۔ 

اس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ اس طرح کی صلاحیت اس میں نہیں تھی۔ اللہ نے اس کے دل میں ایک خیال ڈال دیا کہ اس طرح کر ، اسی کو اس نے کیا۔

یہ ثابت کر نے کے لئے کہ سامری کو جادوئی طاقت نہیں ہے، موسیٰ نبی نے اس کی بنائی ہوئی بچھڑے کی مورت کو آگ میں جلا کرراکھ کر کے سمندر میں پھینک دیا۔ سامری نے صرف اسے دیکھتا ہی رہ گیا۔

زبردست ایمان والے موسیٰ نبی کے خلاف سامری کھڑا نہیں ہوسکا۔ اس نے جو بنائی تھی مورت اس کو بچا نہیں سکا۔اور وہ مورت بھی اس کو بچا نہ پایا۔ 

اس طرح کئی لوگوں کی زندگی میں اتفاقاًکرامتیں سرزد ہو جاتی ہیں۔ لیکن وہ اس کے حقدار نہیں ہوتے۔ 

جب ایک شخص کوما (بے ہوشی) میں مبتلا ہو جا تا ہے تو ہر ڈاکٹر یقینی طور پر کہہ دیتا ہے کہ وہ نہیں اٹھے گا۔ اگر وہ شخص اچانک اٹھ جائے اور ہم سے بات کر نے لگے تو وہ بھی نہیں کہہ سکتا اور ہم بھی نہیں کہہ سکتے کہ وہ اس کی کرامت ہے ۔ ہم یہی کہیں گے کہ اس پر مہربانی کر نے کے لئے وہ اللہ کی طرف سے ایک کرامت ہے۔

ایک شخص خود ہی خیال کر کے خودہی منصوبہ بندی سے کام کرے تو جب ہی ہم کہہ سکتے ہیں کہ وہ اس نے کیا۔ 

ایک شخص جب پچاسویں بالائی منزل سے نیچے گر کر بھی زندہ رہتا ہے تو ہم اسے کس طرح سمجھیں گے؟ وہ جب چاہے پچاسویں منزل سے نیچے گرے گا ، اس کو کچھ بھی نہیں ہوگا، اس طرح وہ بھی نہیں کہے گا ، کوئی بھی نہیں کہے گا۔ ہم یہی سمجھیں گے کہ ناگہانی طور پر اللہ نے اس کو حیرت انگیز طور پر بچالیا۔ 

اگر اس کو ہم سمجھ لیں تو ہم جان لے سکتے ہیں کہ سامری نے کوئی معجزہ نہیں دکھائی اور اس کو اس طرح کی کوئی صلاحیت بھی نہیں تھی۔ 

کرامتوں کے بارے میں اور زیادہ تفصیل کے لئے حاشیہ نمبر 269 دیکھئے!

பகிர்

பதிலளி

உங்கள் கருத்துகளை பதிவிடுங்கள்
உங்கள் பெயர்