14 ۔ آدم نے کس طرح معافی چاہا؟

0
133

14۔ آدم نے کس طرح معافی چاہا؟

آیت نمبر 2:37 کہتی ہے کہ اللہ کی طرف سے آدم ؑ نے چند جملے سیکھ لئے۔ اس آیت میں نہیں کہا گیا کہ وہ جملے کیا ہیں ، بلکہ آیت نمبر 7:23 میں کہہ دیا گیا ہے۔ 

اے ہمارے رب! ہم نے اپنے آپ پر ظلم کر ڈالا۔ اگر تو ہمیں معاف نہ کرے اور رحم نہ کرے تو ہم نقصان اٹھانے والوں میں سے ہو جائیں گے، آیت نمبر 7:23 واضح کر تی ہے کہ یہی وہ جملے ہیں۔ 

اس آیت نمبر 7:23 سے ہمیں معلوم ہو تا ہے کہ وہ بات کہہ کر دونوں نے معافی چاہا، اللہ نے انہیں معاف کردیا، اور اپنی غلطی کا احساس کر کے جو التماس کرتاہے اس کو اللہ معاف کردیتا ہے۔ 

بعض لوگ ایک جھوٹی کہانی گھڑے ہوئے ہیں کہ آدم ؑ نے جو خطا کی تھی،اس کو نبی کریم ؐ کے بنا پر معافی چاہا۔ وہ جھوٹی کہانی یہی ہے: 

آدم ؑ پیدا کئے جانے کے فوراًبعد انہوں نے جنت کو دیکھا۔ اس کے داخلی دروازے پر لا الہ الا اللہ کے ساتھ محمد الرسول اللہ لکھا ہوا تھا۔ انہوں نے پوچھا،یااللہ! تیرے نام کے ساتھ جو محمد کا نام لکھا ہوا ہے، وہ کون ہیں؟تو اللہ نے جواب دیا کہ وہ آنے والے تمہارے جانشین ہیں۔ اگروہ نہ ہوتے تو میں تمہیں بھی پیدا نہ کرتا۔ اس کے بعد جب آدم ؑ نے حکم عدولی کی وجہ سے باہر نکالے گئے تو انہیں جنت میں محمد نبی کے بارے میں جو لکھا ہواتھا، یاد آگیا۔ جب انہوں نے ، یا اللہ! ان محمد کے بنا پر مجھے معاف فرما، کہہ کر دعا مانگی تو فوراً اللہ نے انہیں معاف کر دیا ۔ 

یہ خبر ترمذی اور حاکم وغیرہ میں درج کیا ہوا ہے۔اس خبر کو عبد الرحمن بن زید بن اسلم کے ذریعے روایت کی گئی ہے۔ وہ تو جھوٹی کہانیاں گھڑ نے میں مشہور تھے۔ اس لئے علماء کہتے ہیں کہ وہ خبر گھڑی ہوئی ہے۔

آدم ؑ نے کن الفاظ کو استعمال کر کے معافی چاہا تھا، وہ قرآن کی آیت نمبر 7:23 واضح طور پر کہتی ہے۔ اس کے بالکل برخلاف یہ خبر شائع ہوئی ہے۔ یہ گھڑی ہوئی جھوٹی خبر کہنے کے لئے یہ بھی ایک وجہ ہے۔ 

اس لئے اس خبر کو ماننا قرآن کے خلاف ہے۔

ایک شخص کی بناپر اللہ سے دعا مانگنا بے معنی ہے، اس بات کو جاننے کے لئے حاشیہ نمبر 141دیکھئے۔ 

பகிர்

பதிலளி

உங்கள் கருத்துகளை பதிவிடுங்கள்
உங்கள் பெயர்