سورۃ طٰہٰ ۔ عربی زبان کا سولہواں اور چھبیسواں حرف  20

0
52

سورۃ طٰہٰ ۔ عربی زبان کا سولہواں اور چھبیسواں حرف  20

سورۃ : 20 کل آیتیں : 135

اس سورت کی پہلی آیت میں طا ھا دو حروف آئے ہیں، اس لئے اس سورت کا نام طٰہٰ رکھا گیا ہے۔ 

بہت ہی مہربان ، نہایت ہی رحم والے اللہ کے نام سے …

1۔ طا، ھا2۔

2۔ (اے محمد!) تم بدنصیب ہو نے کے لئے ہم نے یہ قرآن تم پر نہیں اتارا۔ 

3۔ (ہم سے) ڈرنے والوں کو نصیحت کے طور پر (ہم نے اتارا ہے)۔ 

4۔ اونچے آسمانوں507 اور زمین کے پیداکر نے والے سے (یہ) نازل ہوا ہے۔ 

5۔ رحمن نے عرش488 پر قائم ہوا۔ 

6۔ جو کچھ آسمانوں507 میں ہے، اور زمین میں ہے، اور اس کے درمیان میں ہے اور زمین کے نیچے ہے سب اسی کا ہے۔ 

7۔ اگر تم بلند آواز سے کہو (اسے جانتے ہوئے) اس کے بھید کو اور اس سے زیادہ راز کی باتیں بھی وہ جانتا ہے۔ 

8۔ اللہ کے سوا عبادت کے لائق کوئی نہیں۔ اس کے لئے خوبصورت نامیں ہیں۔ 

9۔ کیا تمہیں موسیٰ کے بارے میں خبر معلوم ہے؟

10۔ جب اس نے آگ دیکھی تو اپنے گھر والوں سے کہا کہ ٹہرو۔ میں نے ایک آگ دیکھی ہے۔ اس میں سے میں تمہارے لئے ایک مشعل لے آتا ہوں۔ یا آگ کے لئے کوئی راستہ ڈھونڈ نکالتا ہوں۔ 

11۔ وہاں جب وہ آئے تو اے موسیٰ کہہ کر پکارا گیا۔

12۔ میں ہی تمہارا رب ہوں۔ پس تم اپنے جوتے اتاردو۔تم طوٰی نامی ایک مقدس وادی میں ہو۔ 

13۔میں نے تمہیں منتخب کر لیا ہے۔ پس جو وحی کی جاتی ہے اس خبر کو سنو۔

14۔ میں ہی اللہ ہوں۔ میرے سوا عبادت کے لائق کوئی نہیں۔ پس تم میری عبادت کرو۔ مجھے یاد کر نے کے لئے نماز قائم کرو۔ 

15۔ خاتمے کا وقت1 آنے ہی والا ہے۔ہر ایک اپنی محنت کا اجر پانے کے لئے اس کو ہم نے چھپا رکھا ہے۔

16۔ اسے نہ مانتے ہوئے اپنی خواہش کی پیروی کر نے والا تمہیں اس سے روک نہ دے۔ (ورنہ) تم ہلاک ہوجاؤ گے۔ 

17۔ رب نے پوچھا کہ اے موسیٰ! تمہارے داہنے ہاتھ میں کیا ہے؟ 

18۔ اس نے کہا کہ یہ میری لاٹھی ہے۔ اس پر میں ٹیک لگاتا ہوں۔ اس کے ذریعے میں اپنی بکریوں کے لئے پتے جھاڑتا ہوں۔ میری دوسری ضروریات بھی اس میں ہیں۔

19۔ فرمایا کہ اے موسیٰ! اسے ڈال دو۔ 

20۔ اسے وہ ڈالتے ہی اچانک وہ پھنکارتا ہوا سانپ بن گیا269۔ 

21۔فرمایاکہ بے خوف ہو کر اسے پکڑلو۔ اس کو ہم پہلی حالت پر بدل دیں گے۔

22۔ اپنا ہاتھ اپنے بغل سے ملالو۔ کسی عیب کے بغیر وہ چمکتا ہوا ظاہر ہوگا۔ یہ دوسری ایک نشانی ہے269۔ 

23۔ ہم اپنی بڑی نشانیوں میں سے بعض تمہیں دکھا تے ہیں۔ 

24۔ (رب نے فرمایا کہ) تم فرعون کے پاس جاؤ۔ وہ حد سے بڑھ گیا ہے۔ 

25۔ اس نے کہا کہ اے پروردگار! میرا سینہ میرے لئے کشادہ کر دے۔ 

26۔ اور میرا کام میرے لئے آسان کردے۔ 

27۔ میری زبان میں جو گرہ ہے اسے کھول دے۔

28۔ (تب ہی) میری بات وہ لوگ سمجھ سکیں گے۔ 

30,29۔ میرے گھرانے سے میرے بھائی ہارون کو میرا معاون بنا دے26۔ 

31۔ ان کے ذریعے مجھے طاقتور بنادے۔ 

32۔ میرے کام میں انہیں بھی شریک کردے۔ 

33۔ تاکہ ہم کثرت سے تیری تسبیح کر سکیں۔ 

34۔ اور تجھے زیادہ یاد کر سکیں۔

35۔ (اور کہا کہ) تو ہمیں دیکھنے والا ہے488۔ 

36۔ فرمایا کہ اے موسیٰ! تمہاری استدعا قبول کر لی گئی۔ 

37۔ پھر ایک بار تم پر احسان کیا گیا ہے۔ 

38۔یاد کرو کہ تمہاری ماں کو جو کہنا تھا ہم نے کہہ دیا۔

39۔ (تمہاری ماں سے کہا تھا کہ) اس (بچے) کو صندوق میں رکھ کر اسے دریا میں چھوڑ دو۔ دریا انہیں کنارے پر پہنچا دے گا۔ میرا اور ان کا دشمن اسے اٹھا لے گا۔ میری نگرانی میں تم پرورش پانے کے لئے ہم اپنی محبت تم پر ڈال دی۔ 

40۔ تمہاری بہن چلتی ہوئی جا کر کہنے لگی کہ کیا میں اس بچے کی نگہداشت کر نے والے کے بارے میں تمہیں بتاؤں؟ پس ہم نے تمہاری ماں کی آنکھیں ٹھنڈی کر نے اور وہ بے فکر رہنے کے لئے ان کے پاس تمہیں پھر سے لوٹا دیا484۔ تم نے ایک شخص کو قتل کر دیا تھا375۔ تمہیں اس غم سے نجات دی۔ تمہیں کئی طریقوں سے آزمایا۔ مدین والوں کے پاس تم کئی سال ٹہرے رہے۔ اے موسیٰ! پھر تم (ہماری) منصوبے کے مطابق آپہنچے۔ 

41۔ میرے لئے تمہیں منتخب کرلیا۔ 

42۔ تم اور تمہارے بھائی میری نشانیوں کے ساتھ جاؤ۔ مجھے یاد کر نے میں سستی نہ کرو۔

43۔ تم دونوں فرعون کے پاس جاؤ۔ وہ حد سے سرکش ہو گیا ہے۔ 

44۔ (اور فرمایا کہ) تم دونوں اس سے نرمی ہی سے بات کرو۔ شاید وہ عبرت حاصل کرے یا (مجھ سے) ڈرے۔ 

45۔ دونوں نے کہا کہ اے ہمارے پروردگار! ہمیں ڈر ہے کہ وہ ہمیں تکلیف پہنچائے یا وہ ہم پر زیادتی کرے۔

46۔ فرمایا کہ ڈرو نہیں، میں سب کچھ دیکھتا ہوا اور سنتا ہوا تمہارے49 ساتھ ہوں۔ 

48,47۔ تم دونوں اس کے پاس جاؤ اور کہو کہ ہم پر وحی کی گئی ہے26 کہ ہم تیرے رب کے پیغمبر ہیں۔ پس تم بنی اسرائیل کو ہمارے ساتھ بھیج دو181۔ انہیں اذیت مت دو۔ہم تیرے رب کی طرف سے تیرے پاس نشانی لے کرآئے ہیں۔ سیدھی راہ کے پیروی کر نے والوں پر سلامتی ہو۔ جس نے جھوٹ سمجھ کر جھٹلادیا اس کے لئے عذاب ہے۔

49۔ اس نے پوچھا کہ اے موسیٰ! تمہارا رب کون ہے؟ 

50۔ اس نے کہا کہ ہر چیزکو اس کی شکل و صورت عطا کر کے پھر راہ دکھانے والا ہی ہمارا رب ہے۔ 

51۔ اس نے پوچھا کہ گزری ہوئی نسلوں283 کا کیاحال ہے؟ 

52۔ اس نے کہا کہ اس کا علم تو میرے رب کے پاس (موجود) دفتر میں157ہے۔ میرا رب نہ غلطی کر تا ہے اور نہ بھولتا ہے۔ 

53۔ اسی نے تمہارے لئے زمین کو گہوارہ بنایا284۔ اس میں تمہارے لئے راستے آسان کئے۔ آسمان 507سے پانی برسا کر اس کے ذریعے مختلف قسم کی بناتات کے جوڑے242 ظاہر کئے۔ 

54۔ کھاؤاور اپنے مویشیوں کو چراؤ۔ عقل والوں کے لئے اس میں کئی نشانیاں ہیں۔ 

55۔ اسی میں سے تمہیں پیدا کیا۔ اسی میں تمہیں لوٹائیں گے۔ پھرایک بار ا سی میں سے تمہیں ظاہر کریں گے۔ 

56۔اس (فرعون) کو ہماری ساری نشانیاں دکھائیں۔ اس نے جھوٹ سمجھ کر انکار کردیا۔

57۔ اس نے پوچھا کہ اے موسیٰ!کیا تم ہمارے پاس اس لئے آئے ہو کہ اپنے جادو285 سے ہمارے اس زمین سے ہمیں نکال دے۔ 

58۔ (اور کہا کہ) اس قسم کاایک جادو ہم بھی تمہیں کر دکھائیں گے۔ہمارے اور تمہارے درمیان (مقابلہ کے لئے) ایک عام جگہ پر ایک وقت مقرر کرلو۔ جسے تم اور ہم خلاف ورزی نہیں کریں گے۔ 

59۔ موسیٰ نے کہا کہ تہوار کا دن ہی تمہارے لئے مناسب ہے۔ دوپہر سے پہلے لوگوں کو جمع کردیا جائے۔ 

60۔ فرعون لوٹ کر چلا اوراپنی مکاری کویکسوکیا، پھر آگیا۔ 

61۔ موسیٰ نے ان سے کہا کہ تمہارا برا ہو۔ اللہ پر جھوٹ بہتان نہ باندھو۔ وہ تمہیں عذاب سے تباہ کردے گا۔ جھوٹ گھڑنے والا نقصان میں پڑگیا۔ 

62۔ وہ اپنے معاملے میں آپس میں بحث کر نے لگے۔ اس کو رازداری سے کر نے لگے۔

63۔ کہنے لگے کہ یہ دونوں جادو گر 285ہیں۔ اپنے جادو کے ذریعے تمہیں تمہارے سر زمین سے نکال دینا چاہتے ہیں۔ تمہارے بہترین طریقوں کو مٹادینا چاہتے ہیں357۔ 

64۔ (اور کہا کہ)تم اپنی تدبیریں اکٹھے کر لو۔ پھر صف باندھے ہوئے آجاؤ۔ مقابلے میں جیتنے والے ہی آج کامیاب ہوں گے۔ 

65۔ (جادوگروں نے )پوچھاکہ اے موسیٰ! تم ڈالتے ہو یا ہم پہلے ڈالیں؟ 

66۔ موسیٰ نے کہا کہ نہیں ، تم ہی ڈالو۔ اچانک ان کی رسیاں اور لاٹھیاں ان کے جادو سے پھنکارتے ہوئے285 انہیں نظر آئے357۔ 

67۔ موسیٰ نے اپنے اندر خوف محسوس کر نے لگے۔ 

68۔ ہم نے کہا کہ ڈرو نہیں، تم ہی کامیاب ر ہوگے۔

69۔ (ہم نے یہ بھی کہا کہ) تمہارے داہنے ہاتھ میں جو ہے اسے ڈالو۔ انہوں نے جو بنایا ہے اس کو یہ نگل جائے گا۔ انہوں نے جو کیاوہ جادوگر کا فریب ہے285 ۔ (مقابلے میں) جب آجائے تو جادوگرکامیاب نہیں ہوتا357۔ 

70۔ تمام جادو گرفوراً سجدے میں گر کر کہنے لگے کہ ہم نے موسیٰ اور ہارون کے رب پر ایمان لائے۔

71۔ فرعون نے کہا کہ میں تمہیں اجازت دینے سے پہلے تم نے اس کو مان لیا؟وہی تمہیں جادو سکھا نے والا تمہارا استاد ہے285 ۔ پس میں تمہارے ہاتھ اور پاؤں مخالف سمت سے کٹوا کر تمہیں کھجور کے درخت کے نچلے حصہ میں سولی دے دوں گا۔ ہم میں سخت سزا دینے والا اور قائم رہنے والا کون ہے (جب ) تمہیں معلوم ہوجائے گا۔ 

72۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے پاس جو واضح دلائل آئے ہیں اس سے اور ہمیں پیدا کر نے والے سے زیادہ ہم تم کو ترجیح دینے والے نہیں۔ تم کو جو فیصلہ سنانا ہے سنادے۔ اس دنیوی زندگی ہی میں تم فیصلہ کر سکتے ہو۔ 

73۔ (اور یہ بھی کہا کہ) ہمارے گناہوں کواوراس جادو357 کو بھی جو تم نے ہمیں مجبور کیا تھا، ہمارا پروردگار بخش دینے کے لئے ہم نے ہمارے رب پر بھروسہ کر لیا ہے۔ اللہ ہی بہتر اور باقی رہنے والا ہے۔ 

74۔اپنے پروردگار کے پاس مجرم بن کر آنے والے کو جہنم ہی ہے۔جس میں نہ وہ مرے گا اور نہ جئے گا۔ 

75۔ نیک عمل کر کے ایمان کے ساتھ اس کے پاس آنے والوں ہی کو بلند درجے ہیں۔

76۔ دائمی جنت کے باغات ہیں۔ اس کے نچلے حصہ میں نہریں جاری ہیں۔ اس میں وہ ہمیشہ رہیں گے۔یہی پاکیزہ زندگی جینے والوں کا بدلہ ہے۔ 

77۔ ہم نے موسیٰ سے کہا کہ میرے بندوں کو لے کر نکلو۔ ان کے لئے سمندر میں ایک خشک راستہ بنا کر دو۔ پکڑے جانے کے بارے میں خوف نہ کرو۔ (کسی اور چیز سے بھی) نہ ڈرو۔

78۔ فرعون نے اپنے لشکر کے ساتھ ان کا پیچھا کیا۔سمندر میں جو ڈھانپنا چاہئے تھا وہ انہیں ڈھانپ لیا۔ 

79۔ فرعون نے اپنی قوم کو گمراہ کر دیا۔سیدھا رستہ نہیں دکھایا۔ 

80۔ اے بنی اسرائیل! ہم نے تمہیں تمہارے دشمنوں سے نجات دی۔ کوہ طور کی داہنی حصے کا ہم نے وعدہ کیا۔ تم پر من و سلوٰی442 (کی غذا) اتارا۔ 

81۔ہم نے جو تم کو دیا ہے اس میں سے پاکیزہ رزق کھاؤ۔ یہاں حد سے آگے نہ بڑھو۔ (ورنہ) میرا غضب تم پر اترے گا۔ جس پر میرا غضب اتر گیا، وہ تباہ ہوگیا۔ 

82۔ جس نے توبہ کی، ایمان لے آیا، نیک عمل کئے اور پھر راہ راست پر چلاتو میں اس کو بخش دوں گا۔ 

83۔ (رب نے فرمایا کہ) اے موسیٰ! تم اپنی قوم کو چھوڑ کر جلد کیوں آگئے؟ 

84۔ اس نے کہا کہ وہ لوگ میرے پیچھے آرہے ہیں۔ اے میرے پروردگار! تیری رضا کی خاطر میں تیرے پاس جلد آگیا۔ 

85۔ (رب نے) کہا کہ تیرے پیچھے ہم نے تیری قوم کی آزمائش کی484۔ انہیں سامری نے گمراہ کر دیا۔ 

86۔ فوراً موسیٰ نے اپنی قوم کی طرف غصہ اور رنج کے ساتھ لوٹے۔ اور کہا کہ اے میری قوم! کیا تمہارے رب نے تمہیں اچھا وعدہ نہیں کیا تھا؟ یا (میرے گئے ہوئے) کیا زیادہ زمانہ گزر گیا؟ یا کیا یہ چاہتے ہوئے کہ تمہارے رب کا غضب تم پر نازل ہو، تم مجھ سے کئے ہوئے وعدے کی خلاف ورزی کی؟ 

87۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے منصوبہ بناکر تم سے کئے ہوئے وعدے کی خلاف ورزی نہیں کی۔بلکہ اس قوم کے زیورات ہم پر لادا گیا۔ ہم نے اسے پھینک دیا۔ اسی طرح سامری بھی پھینکا۔ 

88۔ ان کے لئے جسم کے ساتھ ایک بچھڑے کو (اس نے) برآمد کیا۔ وہ آواز بھی نکالی۔ فوراً (ان میں سے جاہل) لوگ کہنے لگے کہ یہی تمہارا معبود ہے، موسیٰ کا معبود۔پس وہ راہ بھٹک کر چلے گئے19۔ 

89۔ کیا انہیں غور کرنا نہیں چاہئے تھا کہ وہ کسی بات کا جواب نہیں دیتااور نہ ان کے لئے نفع یا نقصان پہنچانے کا اختیار رکھتا ہے؟

90۔ اس سے پہلے ہارون نے ان سے کہا تھاکہ اے میری قوم! تم اس کے ذریعے آزمائے گئے ہو484۔ رحمن ہی تمہارا رب ہے۔ پس تم میری پیروی کرو۔ میرے حکم کی تعمیل کرو۔

91۔ انہوں نے کہا کہ موسیٰ ہمارے پاس لوٹ کر آنے تک ہم اسی میں مستحکم رہیں گے۔ 

93,92۔ (موسیٰ نے) کہا کہ اے ہارون! جب تم نے دیکھا کہ وہ گمراہ ہو رہے ہیں تو تمہیں میری پیروی نہ کر نے میں کیا رکاوٹ تھی؟ تم تو میرے حکم کی خلاف ورزی کردی26۔

94۔ (ہارون نے ) کہا کہ اے میری ماں کے بیٹے! میری داڑھی اور میرے سر کو نہ پکڑو۔ میں ڈرا کہ تم یہ کہو گے کہ میرے حکم کا انتظار کئے بغیر بنی اسرائیل کے درمیان تفرقہ پیدا کر دیا۔ 

95۔ (موسیٰ نے) کہا کہ اے سامری! تیرا معاملہ کیا ہے؟ 

96۔ اس نے کہا کہ جو انہوں نے نہیں دیکھا، میں نے دیکھا۔ اس رسول کی نقش قدم سے ایک مٹھی بھر لے لی۔ اسے پھینکا ۔ میرے دل نے ایسا کر نے سے مجھے ورغلایا19۔

97۔ (موسیٰ نے )کہا کہ تو چلا جا۔ تیری زندگی میں یہ حالت ہوگی کہ تم کہو گے مجھے مت چھونا۔تبدیل نہ ہونے والا ، وعدے کے مطابق آنے والا ایک وقت بھی تیرے لئے ہے۔ تم جس کی پرستش کر رہے تھے اس معبود کو دیکھ۔ اسے آگ میں جلا کر پھر اسے سمندر میں بکھیر دیں گے19۔ 

98۔ تمہارا معبود اللہ ہی ہے۔ اس کے سوا عبادت کے لائق کوئی نہیں۔ ہر ایک چیز کو اس نے وضاحت سے جان رکھا ہے۔ 

99۔ (اے محمد!) اسی طرح ہم گزری ہوئی خبریں تمہیں سناتے ہیں۔ اور ہماری نصیحت بھی ہم تمہیں عطا کر چکے ہیں۔ 

100۔ اس کو جھٹلا نے والے قیامت کے دن 1گناہوں کا بوجھ اٹھائیں گے۔

101۔ اس میں وہ ہمیشہ رہیں گے۔ قیامت کے دن1 وہ ان کے لئے بہت برا بوجھ ہوگا۔ 

102۔ صور پھونکنے کے دن ہم مجرموں کو نیلے رنگ کی آنکھوں سے اٹھائیں گے۔ 

103۔ وہ لوگ آپس میں رازداری سے کہتے ہوں گے کہ ہم دس دن کے سوا (دنیا میں) نہیں رہے۔

104۔ جب ان میں سے زیادہ علم رکھنے والا کہے گا کہ تم ایک دن کے سوا (دنیا میں) نہیں رہے تو ان کا کہنا ہم خوب جانتے ہیں۔ 

105۔ (اے محمد!) پہاڑوں کے بارے میں وہ تم سے پوچھتے ہیں۔تم کہو کہ میرا رب ان کو ریزہ ریزہ کر دے گا۔ 

106۔ پھر اسے کھلا، بنجر زمین بنا دے گا۔

107۔ اس میں تم کوئی نشیب و فراز نہیں دیکھو گے۔

108۔ کسی قسم کا انکار کے بغیر اس دن1 پکارنے والے کے پیچھے چلیں گے۔ رحمن کے آگے سب آوازیں دب جائیں گی۔ قدموں کے آہٹ کے سوا تم کچھ بھی نہ سنو گے۔ 

109۔ اس دن رحمن جسے اجازت دے اور اس کی بات کو پسند بھی کر لے ، اس کے سوا کسی اور کی سفارش17 فائدہ نہ دے گی۔ 

110۔ جو کچھ ان کے آگے ہے اور جو کچھ ان کے پیچھے ہے سب وہ جانتا ہے۔ اسے وہ لوگ پوری طرح جان نہیں سکتے۔ 

111۔ ہمیشہ زندہ رہنے والے کے آگے ان کے چہرے جھک جائیں گے۔ جس نے ظلم کا بوجھ اٹھایا نامراد ہوا۔ 

112۔ ایمان کی حالت میں نیک عمل کر نے والے نا انصافی کئے جانے یا کوئی کمی دئے جانے سے نہیں ڈریں گے۔

113۔ اسی طرح وہ لوگ (اللہ سے) ڈرنے یاانہیں عبرت پیدا کرنے کے لئے ہم نے قرآن کو عربی زبان489 میں نازل کیا227۔ اس میں ہم نے واضح طور سے تنبیہ کی ہے۔

114۔ اللہ جو حقیقی بادشاہ ہے بلندو برتر ہوگیا۔ (اے محمد!) اس کی وحی تمہیں پوری طرح سنانے سے پہلے152 قرآن کے معاملے میں جلدی نہ کرو۔ کہوکہ اے میرے پروردگار! میرا علم زیادہ کردے447۔

115۔ اس سے پہلے ہم آدم سے عہد لیا تھا۔ اس نے بھول گیا۔ اس میں ہم عزم نہیں پایا۔ 

116۔ ہم نے جب فرشتوں سے کہا کہ آدم کی اطاعت11 کرو تو ابلیس 506کے سوا سب نے اطاعت کی۔اس نے انکار کر دیا۔ 

117۔ ہم نے کہا کہ اے آدم! یہ تمہارا اور تمہاری بیوی کا دشمن ہے۔ وہ کہیں تم دونوں کو جنت سے12 نہ نکلوادے۔ تب تم بدبخت ہوجاؤ گے۔ 

118۔ یہاں تم بھوکے نہیں رہو گے، ننگے نہ ہوگے۔ 

119۔ یہاں تم پیاسے بھی نہیں رہوگے، تم پر دھوپ بھی نہیں پڑے گی۔ 

120۔ ان کے پاس شیطان نے برا خیال پیدا کیا۔ (کہا کہ) اے آدم! دائمی (زندگی بخشنے والے) درخت کے13 بارے میں اور لازوال حکومت کے بارے میں کیا میں تمہیں بتاؤں؟ 

121۔ ان دونوں نے اس میں سے کھالیا۔ ان دونوں کو اپنی شرمگاہ کے بارے میں پتا چلا174۔ وہ دونوں جنت کے12 پتوں سے اپنے کو ڈھانکنے کی کوشش کی۔ آدم نے اپنے رب کی نافرمانی کی۔ پس وہ بہک گیا۔ 

122۔ پھر ان کا پروردگار ان کو منتخب کیا۔ انہیں معاف کیا اور سیدھی راہ بتائی۔ 

123۔اور فرمایاکہ دونوں یہاں سے ایک ساتھ اتر جاؤ۔ تم میں سے بعض، بعض کے دشمن ہوں گے۔ میری طرف سے تمہیں سیدھی راہ آئے گی۔ اس وقت جومیری ہدایت کی پیروی کرے گا ،وہ گمراہ نہیں ہوگا۔ بد بخت بھی نہیں ہوگا۔ 

124۔ جو شخص میری نصیحت سے اعراض کر ے گا اس کے لئے تنگ زندگی ہے۔ اسے ہم قیامت کے دن اندھا اٹھائیں گے۔ 

125۔ وہ کہے گا کہ اے میرے رب!میں تو آنکھوں والا تھا، تو نے مجھے اندھا کیوں اٹھایا؟ 

126۔ (اللہ) فرمائے گا کہ وہ ایسا ہی۔ ہماری آیتیں تیرے پاس آئی تھیں۔ اسے تم بھول گئے۔ اسی طرح آج تم بھلادئے جارہے ہو۔ 

127۔ اپنے پروردگار کی آیتوں کو نہ مانتے ہوئے حد سے بڑھ جانے والے کو ہم اسی طرح بدلہ دیں گے۔ آخرت کا عذاب سخت اور باقی رہنے والا ہے۔

128۔ کیا ان لوگوں کو یہ بات سیدھی راہ نہیں دکھلائی کہ ہم ان سے پہلے کتنی ہی نسلوں کو ہلاک کر چکے ہیں۔وہ ان کی آبادی کے مقامات پر چلتے پھرتے ہیں۔ عقلمندوں کے لئے اس میں کئی نشانیاں ہیں۔

129۔ اگر تمہارے رب کی طرف سے مقررہ مدت اور تقدیر سبقت نہ لے جاتی تو (بربادی) یقینی ہوجاتا۔ 

130۔ (اے محمد!) ان کی باتوں کو برداشت کرلو۔ سورج طلوع ہو نے سے پہلے اور وہ غروب ہو نے سے پہلے اور رات کے ا وقات میں بھی اپنے پروردگار کی حمد و پاکی بیان کرو۔ دن کے کناروں میں بھی تسبیح کرو۔ اس سے(جو اجر ملتا ہے) تم مطمئن ہوگے۔ 

131۔ (اے محمد!) آزمائش 484کے طور پر ان میں سے بعض کو ہم نے اس دنیوی زندگی کی جو کشش دے رکھی ہے اس کی طرف آنکھیں دراز نہ کرو۔ تمہارے رب کی دولت بہتر اور باقی رہنے والی ہے۔ 

132۔ (اے محمد!) اپنے گھر والوں کو نماز کا حکم دو۔ اس میں ( ہونے والی تکلیفوں کو) برداشت کرلو۔ہم تم سے دولت نہیں مانگا۔ ہم خود تمہیں دولت دیتے ہیں۔ (اللہ کے) ڈر ہی کو (اچھا) انجام ہے۔ 

133۔ وہ لوگ پوچھتے ہیں کہ یہ اپنے رب سے کوئی نشانی ہمارے پاس کیوں نہیں لاتے؟ کیاپہلی کتابوں میں موجود نشانی ان تک نہیں پہنچی؟

134۔ اگر پہلے ہی عذاب کے ذریعے ہم انہیں ہلاک کردیتے تو وہ کہہ اٹھتے کہ اے ہمارے پروردگار! ہمارے پاس ایک رسول تو نے کیوں نہیں بھیجا؟ ہم ذلیل و رسوا ہو نے سے پہلے تیری آیتوں کی پیروی کر تے؟ 

135۔ کہہ دو کہ سب انتظار کر رہے ہیں، تم بھی انتظا کرو۔عنقریب جان لوگے کہ سیدھی راہ کے مستحق کون ہیں اور ہدایت یافتہ کون ہیں؟

பகிர்

பதிலளி

உங்கள் கருத்துகளை பதிவிடுங்கள்
உங்கள் பெயர்