سوراۃ المائدہ ۔کھانے ک خوان 5

0
52

سوراۃ المائدہ ۔کھانے ک خوان 5

سورہ : 5 کل آیتیں:120

عیسیٰ نبی کی قوم نے مطالبہ کیا تھا کہ اللہ ان کے لئے آسمان سے کھانے سے بھرا خوان اتارے۔عیسیٰ نبی کے دعا کرنے کی بنا پر اسی طرح کھانے کا خوان اتارا گیا، 114,113,112وغیرہ آیتوں میں اس واقعہ کا ذکر آنے کی وجہ سے اس سورت کا یہ نام رکھا گیا ہے

بہت ہی مہربان نہایت ہی رحم والے اللہ کے نام سے …

1۔ اے ایمان والو! عہدو پیمان پورا کرو۔نباتات کھانے والے مویشی تمہارے لئے حلال کئے گئے ہیں بجز ان کے جو (تمہیں ) بعد میں بتلا یا جائے گا۔احرام کی حالت میں شکار کرنا جائز نہ سمجھو۔ اللہ جو چاہتا ہے حکم دیتا ہے۔ 

2 ۔ اے ایمان والو! اللہ کی (حرمت والی) نشانیاں، حرمت والے مہینے55، قربانی کے جانور، (قربانی کے جانوروں کے گلے میں نشانی کے لئے ڈالے گئے) پٹّے،اور اپنے پروردگار کے فضل و رضاجوئی کی تلاش میں حرمت والی گھر کی طرف جانے والے33، ان سب حرمتوں کی بے ادبی نہ کرو۔احرام سے فارغ ہوجاؤ تو شکار کرو۔ مسجد الحرام سے تمہیں روکنے والی قوم کی عداوت تمہیں زیادتی کرنے پر نہ ابھارے۔نیکی اور پرہیزگاری میں ایک دوسرے کی مدد کیا کرو۔ گناہ اور سرکشی میں ایک دوسرے کی مدد نہ کرو۔اور اللہ سے ڈرو، اللہ سخت سزا دینے والا ہے۔ 

3۔ (خود سے) مرا ہوا، خون، سور کا گوشت407، اللہ کے سوا کسی اور کے لئے کاٹا ہوا42تم پر حرام کیا گیا ہے171۔ گلا گھونٹا ہوا، چوٹ لگا ہوا، (اونچائی سے) نیچے گرا ہوا، (آپس میں) ٹکرایا ہوا، درندے پھاڑ کھائے ہوئے جانور، ان میں (اگر جان ہوتو) تم ٹھیک سے ذبح کئے ہوئے جانور کے سوا(تم پر حرام کیا گیا ہے)۔ قربان گاہوں میں 135ذبح کیا ہوا اور تیروں کے ذریعے فال نکالنا136بھی(تم پر حرام کیا گیا ہے)۔یہ سب گناہ ہیں۔ (اللہ کا) انکار کر نے والے تمہارے دین کو (مٹانے کے بارے میں) آج ناامید ہوچکے ہیں۔ پس تم ان سے نہ ڈرو۔مجھ ہی سے ڈرو۔آج میں نے تمہارے دین کو مکمل کردیا۔ تم پر اپنی نعمت پوری کردی۔ تمہارے لئے اسلا م کو دین ہو نے پر راضی ہوگیا۔ جو شخص گناہ کر نے کی چاہت نہ رکھتے ہوئے بھوک کی شدت سے مجبور431 ہو جائے تو اللہ معاف کر نے والا،نہایت ہی رحم والا ہے۔42

4۔وہ تم سے پوچھتے ہیں کہ ان کے لئے کن چیزوں کی اجازت ہے؟ کہہ دو کہ پاکیزہ چیزیں، اور شکاری جانوروں میں جن کو تم نے سکھایا ہو اور اللہ نے جو تمہیں سکھایا ہو وہ ان کو سکھا دیا ہو، اس کا (شکار کیا ہوا) تمہارے لئے حلال کیا گیا ہے171۔ وہ تمہارے لئے جو پکڑ لائے اسے کھاؤ۔ (اسے بھیجتے وقت ) اس پراللہ کا نام لو۔ اللہ سے ڈرو۔ اللہ جلد حساب لینے والا ہے۔ 

5۔ پاکیزہ چیزیں آج تمہارے لئے حلال کردی گئی ہیں۔ اہل کتاب27 کا کھانا تمہارے لئے حلال کردیا گیا ہے137۔اور تمہارا کھانا ان کے لئے حلال کردیا گیا ہے۔ ایمان دار بے شوہر والی عورتوں کواور تم سے پہلے کتاب27 دئے گئے بے شوہر والی عورتوں کو داشتہ بنائے بغیر اور بدکاری کئے بغیراور پاکدامنی چھوٹے بغیر ان کے مہر وں106 کو ادا کرکے ان سے نکاح کرنا تمہارے لئے حلال کیا گیا ہے138۔ اپنے ایمان کو (اللہ کے) انکار سے بدلنے والے کا نیک عمل ضائع ہوگیا۔وہ آخرت میں نقصان اٹھانے والوں میں سے ہوگا۔ 

6۔ اے ایمان والو!جب تم نماز کے لئے تیار ہوتو اپنے چہروں کو، کہنیوں تک اپنے ہاتھوں کو ٗ ٹخنوں تک اپنے پیروں کودھو لیا کرو۔ اپنے سروں کو (گیلے) ہاتھوں سے پھیر لیا کرو۔اگر تم پر غسل واجب ہوتو (نہا کر) پاک ہوجاؤ۔ اگر تم بیمار ہویا سفر میں ہویا تم میں سے کوئی بیت الخلاء سے آیا ہو یا (صحبت کے ذریعے)عورتوں کو چھوا ہو363 ، پانی نہ ملنے پر پاک مٹی چھو کر اس سے تمہارے چہرے اور ہاتھوں پر پھر لیا کرو117۔ اللہ تمہیں کوئی تنگی دینا نہیں چاہتا68۔ بلکہ تم شکر ادا کر نے کے لئے تمہیں پاک کرنااور اپنی نعمت کو تم پر پورا کرنا چاہتا ہے۔ 

7۔یاد کرو کہ اللہ نے تمہیں جو نعمت عطا کی اور تم سے جو اس نے معاہدہ کیا تھا، اس وقت تم نے کہا تھا کہ ہم نے سنا اور مانا۔ اللہ سے ڈرو۔ دلوں میں جو کچھ ہے اللہ جانتا ہے۔ 

8۔ اے ایمان والو! اللہ کاحکم مان کر انصاف کے گواہی بن جاؤْ ۔کسی قوم کی دشمنی تمہیں نا انصافی پر نہ ابھار دے۔ انصاف سے چلو۔ وہی پرہیزگاری کے قریب ہے۔ اللہ سے ڈرا کرو، جو کچھ تم کرتے ہو اللہ اسے خوب جانتا ہے۔ 

9۔ اللہ نے وعدہ کر رکھا ہے کہ جو ایمان لائیں اور نیک عمل کریں ، انہیں بخشش اور بہت بڑا اجر ہے۔

10۔ جنہوں نے( ہمارا) انکار کیا اور ہماری آیتوں کو جھٹلا یاوہی دوزخی ہیں۔ 

11۔ اے ایمان والو!یاد کرو جب ایک قوم نے تمہاری مخالفت میں دست درازی کرنے کا ارادہ کیا تواللہ نے تم پر احسان کیا۔ان کے ہاتھوں کو تم پر سے اس نے روک دیا۔ اللہ سے ڈرا کرو۔ ایمان والے اللہ ہی پر بھروسہ کر نا چاہئے۔

12۔بنی اسرائیل سے اللہ نے عہد لیا۔ان میں سے بارہ منتخب افراد ہم نے بھیجا۔ اللہ نے کہا: میں تمہارے ساتھ ہوں۔ اگرتم نماز قائم کروگے، زکوٰۃ دوگے، میرے رسولوں پر ایمان لاؤگے، انہیں مدد کروگے، اللہ کو قرض حسنہ75بھی دوگے تو تمہاری برائیاں تم سے مٹا دوں گا۔ اور تمہیں جنت کے باغات میں داخل کروں گا، جن کے نچلے حصہ میں نہریں بہتی ہوں گی۔ اس کے بعد بھی اگر تم میں کوئی (میرا) انکار کیاوہ سیدھے راستے سے بھٹک گیا۔

13۔ پھر ان کی عہد شکنی کی وجہ سے ان پر ہم نے لعنت کی6۔اور ان کے دلوں کو سخت کردیا۔ وہ کلام کو اس کی جگہ سے بدل دیتے ہیں۔ جو نصیحت انہیں کی گئی تھی اس میں سے ایک حصہ وہ چھوڑ بیٹھے۔ ان میں سے چند لوگوں کے سوا دوسروں سے کوئی نہ کوئی خیانت تم دیکھتے رہوگے۔ پس تم انہیں نظر انداز کرتے ہوئے تغافل برتو۔نیکی کرنے والوں کو اللہ پسند کرتا ہے۔

14۔ جنہوں نے کہا ہم نصارٰی ہیں ، ان سے بھی ہم نے عہد لیا تھا۔ جن باتوں کی انہیں نصیحت کی گئی تھی ان میں سے ایک حصّۃوہ چھوڑ بیٹھے۔ اس لئے قیامت کے دن1 تک ان کے درمیان دشمنی اور نفرت پیدا کردیا99۔ وہ جو کچھ کرتے رہے اس بارے میں اللہ انہیں آگاہ کرے گا۔ 

15۔ اے اہل کتاب27! ہمارے رسول (محمد) تمہارے پاس آچکے۔ کتاب الہٰی میں جو کچھ تم چھپا رہے تھے ان اکثر باتوں کو وہ تمہیں واضح کریں گے97، اوربہت سی باتوں سے تغافل فرمائیں گے۔ اللہ کی طرف سے تمہیں روشنی اور واضح کتاب آچکی۔ 

16۔ اس کی رضامندی طلب کر نے والوں کو اللہ اس کے ذریعے نجات کے راستے دکھاتا ہے۔ وہ اپنی مرضی سے انہیں اندھیروں سے303 روشنی میں لے جاتا ہے۔انہیں سیدھا راستہ دکھا تا ہے۔ 

17۔ مریم کے بیٹے مسیح92 ہی کو اللہ ،کہنے والے (اللہ کا) انکارکردیا459۔ پوچھئے کہ مریم کے بیٹے مسیح اور اس کی ماں، اور دنیا کے سارے لوگوں کو اگر اللہ ہلاک کرنا چاہے تواس سے (اس کو روکنے کی)ذرا سی بھی طاقت رکھنے والا کون ہے؟ آسمانوں507، زمین اوران کے درمیان کی ساری حکومت اللہ ہی کے لئے ہے۔ وہ جو چاہتا ہے پیدا کرتا ہے۔ اور اللہ ہر چیز پر قدرت والاہے۔ 

18۔ یہودو نصارٰی کہتے ہیں کہ ہم اللہ کے بیٹے اور اس کے دوست ہیں۔ تم کہو کہ (اگر ایسا ہو تو) تمہارے گناہوں کی وجہ سے وہ تمہیں سزا کیوں دیتا ہے؟ بلکہ تم بھی اس کے پیدا کئے ہوئے انسانوں میں سے ہو368۔وہ جسے چاہتا ہے بخش دیتا ہے۔ وہ جسے چاہتا ہے سزا دیتا ہے۔ آسمانوں507، زمین اوران کے درمیان کی ساری حکومت اللہ ہی کے لئے ہے۔اسی کی طرف لوٹ کر جانا ہے۔ 

19۔ اے اہل کتاب27! تم یہ نہ کہے کہ ہمیں خوشخبری سنانے والے یا ڈرانے والے ہمارے پاس نہیں آئے ، رسولوں کی آمد بند رہنے والے زمانے میں، ہمارے رسول (محمد) تمہیں واضح کر نے کے لئے تمہارے پاس آگئے۔ خوشخبری دینے والے اور ڈر سنانے والے تمہارے پاس آگئے۔ اللہ ہر چیز پر قدرت والا ہے۔ 

20۔ یاد دلاؤ کہ جب موسیٰ نے اپنی قوم سے کہا : اے میری قوم! اس نے تم میں نبیوں کو بنایا، تمہیں حکمراں کیا،اور وہ تمہیں سب کچھ دیا جو دنیا میں کسی کو نہیں دیا تھا،اس کے ذریعے اللہ نے تم پر جو احسان کیا تھا اسے یاد کرو۔

21۔ (موسیٰ نے یہ بھی کہا کہ) اے میری قوم! اللہ نے تمہیں جو لکھ دیا ہے، اس پاک زمین میں داخل ہوجاؤ۔ پیٹھ پھیر کر نہ بھاگو۔ (اگر تم بھاگو گے تو) نقصان اٹھانے والوں میں سے ہوجاؤگے۔

22۔ انہوں نے کہا کہ اے موسیٰ! اس میں دباؤ ڈالنے والی قوم ہے۔جب تک و ہ وہاں سے باہر نہ جائیں گے ہم اس میں داخل نہیں ہوں گے۔وہاں سے وہ لوگ باہر چلے جائیں گے تو ہم داخل ہوں گے۔ 

23۔ اللہ کا فضل پائے ہوئے اور (اللہ سے) ڈرنے والے دو آدمیوں نے کہا: تم ان کے مقابلے میں (اس بستی کے) داخلی دروازے سے داخل ہوجاؤ۔ تم اس میں داخل ہو جاؤ گے تو تم ہی فتح پاؤگے۔ اگر تم مومن ہوتو اللہ ہی پر بھروسہ رکھو۔ 

24۔ انہوں نے کہا کہ اے موسیٰ! جب تک وہ لوگ وہاں موجود ہیں اس میں ہم ہرگز داخل نہیں ہوں گے۔ پس تم اور تمہارا پروردگار جا کر لڑو۔ ہم یہیں بیٹھے رہتے ہیں۔ 

25۔( موسیٰ نے)کہا: اے میرے رب! اپنے اور اپنے بھائی کے سوا (کسی کو) میں قابو نہیں کرسکتا۔پس تو ہمارے اور ان نافرمان لوگوں کے درمیان فیصلہ کردے۔ 

26۔(اللہ نے) فرمایا: یہ شہر ان لوگوں کے لئے چالیس سال تک حرام کردیا گیا۔ وہ لوگ زمیں میں (بے وطن) بھٹکتے پھریں گے۔ پس تم ان مجرم لوگوں کے لئے غمگین نہ ہوں۔ 

27۔ آدم کے دو بیٹوں کا سچا واقعہ انہیں سناؤ۔ ان دونوں نے ایک عبادت کی۔ ان میں سے ایک کی عبادت قبول ہوئی۔ دوسرے کی قبول نہیں ہوئی۔ (جس کی قبول نہیں ہوئی)اس نے کہا: میں تجھے قتل کردوں گا۔(جس کی قبول ہوئی) اس نے کہا: اللہ تو (اپنے سے) ڈرنے والوں ہی سے قبول کرتا ہے۔ 

29,28۔ (اس نے یہ بھی کہا) اگر تم مجھے قتل کر نے کے لئے میری طرف ہاتھ بڑھاؤگے تو میں تمہیں قتل کر نے کے لئے تمہاری طرف ہاتھ بڑھانے والا نہیں۔سارے جہاں کا پروردگار اللہ سے میں ڈرتا ہوں۔ تمہارے گناہ کے ساتھ میرے (قتل کی) گناہ کا بوجھ بھی لادے ہوئے تم دوزخی بننا ہی میں چاہتا ہوں۔یہی ظالموں کا بدلہ 26 ہے۔ 

30۔ (اتنا سب ہو نے کے بعد بھی)اپنے بھائی کے قتل پر ہی اس کے نفس نے ابھارا۔تو اس نے اسے قتل کردیا۔ پس وہ نقصان اٹھانے والوں میں ہوگیا۔ 

31۔ اس کو یہ دکھانے کے لئے کہ اپنے بھائی کی لاش کیسے چھپایا جائے، اللہ نے ایک کوا بھیجا۔وہ زمین کریدنے لگا۔ اس نے کہا: ہائے افسوس! اس کوے کی طرح ہونا بھی مجھ سے نہ ہوسکا۔ اگر اس جیسا ہو تا تو میں میرے بھائی کی لاش چھپا دیا ہوتا۔ وہ پشیمان ہونے لگا۔

32۔ہم نے اسی وجہ سے بنی اسرائیل کے لئے قانون بنا دیا کہ نہ (ناحق )قتل کے بدلے اور نہ ہی زمین میں فسا د برپا کرنے کے بدلے ، اگرایک دوسرے کو قتل کردے تو گویا وہ سب لوگوں کا قتل کرڈالا۔ اور یہ بھی کہ اگر وہ ایک انسان کو زندہ رکھا تو گویا اس نے سب انسانوں کو زندہ رکھا۔ ان کے پاس ہمارے رسول واضح دلیلیں لے کر آئے۔ اس کے بعد بھی اکثر لوگ زمین میں زیادتی کرنے والے ہی رہے۔ 

33۔ قتل کردینا یا صلیب پر چڑھادینایا ہاتھ پاؤں مخالف سمت سے کاٹ دیا جانا، یا جلا وطن کردیا جاناہی اللہ اوراس کے رسول کے ساتھ جنگ کرنے والوں اور زمین میں فساد برپا ک کر نے کی کو شش کرنے والوں کی سزا ہے۔یہ انہیں اس دنیا میں ہونے والی رسوائی ہے۔انہیں آخرت میں سخت عذاب ہے43۔ 

34۔ سوا ان کے جنہیں تم قید کرنے سے پہلے اصلاح کرلی ہوں۔ جان لو کہ اللہ بخشنے والا، نہایت ہی رحم والا ہے۔ 

35۔ اے ایمان والو! اللہ سے ڈرو۔ اس کی طرف ایک وسیلہ تلاش کرلو141۔اس کی راہ میں جہاد کرو، کامیاب حاصل کروگے۔ 

36۔ وہ سب کچھ جوساری زمین میں ہے، اس کے ساتھ اسی کے مثل اور بھی (اللہ کا) انکار کرنے والے کے پاس ہو، اور وہ اسے قیامت کے دن 1کی عذاب کے بدلے فدیہ میں دیں تو بھی ان سے وہ قبول نہیں کیا جائے گا۔ ان کے لئے دردناک عذاب ہے۔ 

37۔ وہ لوگ آگ سے نکلنا چاہیں گے۔ (مگر) اس میں سے وہ نکل نہیں سکیں گے۔ انہیں دائمی عذاب ہے۔

38۔ چرانے والا اور چرانے والی دونوں کے ہاتھ کاٹ دو۔ یہ ان کے کئے کا بدلہ اور اللہ کی طرف سے سزا ہے۔ اللہ زبردست، حکمت والا ہے43۔ 

39۔ظلم کر نے کے بعدمعافی مانگ کر(اپنی) اصلاح کرلینے والے کواللہ معاف کر دیتا ہے۔ اللہ بخشنے والا، نہایت ہی رحم والا ہے۔ 

40۔ کیا تم نہیں جانتے کہ آسمانوں507 اور زمیں کی بادشاہی اللہ ہی کے لئے ہے۔وہ جسے چا ہے سزا دیتا ہے اور جسے چاہے بخشتا ہے۔ اللہ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے۔ 

41۔ صرف منہ سے ہم ایمان لائے کہہ کر، دل سے ایمان نہ لاتے ہوئے (اللہ کے) انکار کی طرف دوڑنے والوں کے بارے میں اور یہودیوں کے بارے میں اے رسول ! تم غمزدہ نہ ہوں۔ وہ صرف جھوٹ ہی زیادہ سنتے ہیں۔ تمہارے پاس نہ آئے ہوئے دوسری قوم کے لئے (تمہاری باتیں) سنتے ہیں۔ کلمات کو ان کی جگہ سے بدل کر بولتے ہیں۔وہ کہتے ہیں کہ اگر وہ (سازگاری) تمہیں دی جائے تو اسے لے لو۔ اگر نہ دیا جائے تو اسے ٹال دو۔ اللہ جسے آزمانا 484چاہتا ہے اسے اللہ سے بچانے کے لئے تم کچھ بھی اختیار نہیں رکھتے۔ ان کے دلوں کو اللہ پاک کرنا نہیں چاہتا۔ انہیں اس دنیا میں رسوائی ہے اور آخرت میں سخت عذاب ہے۔ 

42۔ وہ لوگ جھوٹ ہی زیادہ سنتے ہیں۔ حرام چیز ہی زیادہ کھاتے ہیں۔ اگر وہ تمہارے پاس آئیں تو ان کے درمیان تم فیصلہ کرسکتے ہویا انہیں ٹال سکتے ہو۔ اگرتم انہیں بے پروا کردو تو وہ تمہیں کوئی ضرر نہیں پہنچا سکتے۔ ان کے درمیان اگر تم فیصلہ کرو تو انصاف کے ساتھ کرو۔ انصاف کر نے والوں کو اللہ پسند کرتا ہے۔ 

43۔ ان کے پاس تورات ہے491 ۔ اس میں اللہ کا حکم بھی ہے۔ اس کے بعدوہ اسے جھٹلا دیتے ہیں۔ ایسی حالت میں وہ کیسے تمہیں فیصلہ کر نے والا مانیں گے؟ وہ تو ایمان والے نہیں۔ 

44۔ ہم نے تورات491 نازل کی۔ اس میں ہدایت اور روشنی تھی۔ (اللہ کے) فرماں بردارانبیاء ، عبادت گذار یہودی اور علماؤں کو اللہ کی کتاب کی حفاظت کے لئے حکم دینے کی وجہ سے اور وہ اس کے گواہ بنے رہنے کی وجہ سے یہودیوں کو اسی کے ذریعے فیصلہ کرتے رہے۔ پس تم لوگوں سے نہ ڈرو، مجھ ہی سے ڈرو۔ میری آیتوں کو تھوڑی سی قیمت پر مت بیچو445۔ اللہ کے نازل کردہ بنیاد پر فیصلہ نہ کرنے والے ہی234 (اللہ کا) انکار کرنے والے ہیں۔

45۔ جان کے بدلے جان، آنکھ کے بدلے آنکھ، ناک کے بدلے ناک، کان کے بدلے کان، دانت کے بدلے دانت اور زخموں کے بدلے اسی انداز کا زخم لگانا، اس قانوں کو اس (تورات) میں ان کے لئے لکھ دیا تھا۔ اگر (مظلوم) کوئی اسے معاف کردے تووہ ان کے لئے (گناہوں کا) کفارہ ہوگا اللہ کے نازل کردہ بنیاد پر فیصلہ نہ کرنے والے ہی234 ظالم ہیں43۔ 

46۔ اس سے پہلے گزرے ہوئے تورات491 کی تصدیق کر نے کے لئے انہیں کے نقش وقدم پر مریم کے بیٹے عیسیٰ کو بھیجا۔ انہیں انجیل491 بھی عطا فرمائی۔ اس میں ہدایت اور روشنی تھی۔ اس سے پہلے گزرے ہوئے تورات 491 کی بھی وہ تصدیق کرتی تھی۔ (اللہ سے) ڈرنے والوں کے لئے وہ سیدھا راستہ اور نصیحت تھی۔ 

47۔ انجیل والے491 اس میں اللہ کے اتارے ہوئے کی بنیاد پر فیصلہ کریں۔ اللہ کے نازل کردہ کی بنیاد پر فیصلہ نہ کرنے والے ہی234 مجرم ہیں۔ 

48۔ حقیقت کو اپنے اندر سمائے ہوے کتاب تم پر نازل فرمائی ہے۔ وہ اپنے سے پہلے گزرے ہوئے کتاب4 کی تصدیق اور حفاظت کرتی ہے ۔ پس اللہ کے نازل کردہ کی بنیاد پر ان کے درمیان فیصلہ کریں۔جوسچائی تمہارے پاس آئی ہے اس سے بے پرواہ ہوکر ان کے خواہشات کی پیروی نہ کرو۔تم میں ہر ایک کے لئے ایک دستور حیات اور راہ عمل مقرر کردی ہے۔ اگر اللہ چاہتا تو تمہیں ایک ہی امت بنادیتا۔ پھر بھی اس نے جوکچھ تمہیں دیا ہے، تمہیں آزمانے کے لئے484 ( ایک نہیں بنایاہے)۔ پس تم نیکیوں کے لئے آگے بڑھو۔ تم سب اللہ ہی کے پاس لوٹ کر جانا ہے۔ تمہارے اختلاف کے بارے میں وہ تمہیں بتا دے گا۔ 

49۔ اللہ کے اتارے ہوئے کی بنیاد پر فیصلہ کرو۔ ان کے خواہشات کی پیروی نہ کرو۔ہوشیار رہئے کہ اللہ کے اتارے ہوئے میں سے چند چیزوں کو چھوڑ کر وہ تمہیں الجھا دیں گے ۔ اگر وہ جھٹلائیں تو جان لو کہ ان کے بعض گناہوں کے سبب انہیں سزا دینا ہی اللہ چاہتا ہے۔ لوگوں میں اکثر گناہ کر نے والے ہی ہیں۔ 

50۔ کیا وہ دور جاہلیت کا فیصلہ ڈھونڈتے ہیں؟ یقین رکھنے والی قوم کے لئے اللہ سے بڑھ کر بہتر فیصلہ کر نے والا کون ہے؟234

51۔ اے ایمان والو! یہودیوں اور عیسائیوں کو اپنا محافظ نہ بناؤ89۔ ان میں ایک دوسرے کے وہ محافظ ہیں۔ جو انہیں اپنا سرپرست بنا لیا وہ انہیں میں شامل ہوگیا۔ ظلم ڈھانے والے لوگوں کو اللہ راستہ نہیں دکھاتا۔

52۔ جن کے دلوں میں بیماری ہے وہ انہیں کی طرف دوڑتے ہوئے دیکھو گے۔وہ کہتے ہیں کہ ہم ڈر رہے ہیں کہ کوئی مصیبت ہم پر نہ آجائے۔اللہ (تمہیں) کامیابی عطا کرے یا اورکوئی ایک چیز ظاہر کرے۔تب وہ لوگ اپنے دلوں میں چھپائے رکھنے کی وجہ سے فکر مند ہوں گے۔

53۔ ان کے نیک اعمال غارت ہوگئے ، وہ گھاٹے میں پڑگئے۔ایما ن والے (آخرت میں حیرت سے ) کہیں گے کہ کیا یہ وہی لوگ ہیں جو اللہ پر بڑے زورکی قسم کھاکر کہتے تھے کہ ہم بھی تمہارے ساتھ ہیں۔ 

54۔ اے ایمان والو! اگر تم میں کوئی اپنے دین کو چھوڑ کر بدل گئے تو پھر اللہ ایک دوسری قوم لے آئے گا۔ جنہیں وہ پسند کرے گا، وہ بھی اس کو پسند کریں گے۔ مومنوں کے ساتھ وہ عاجزی سے اور(اللہ کے) انکار کرنے والوں کے پاس وہ سر اٹھائے ہوے رہیں گے۔ وہ اللہ کی راہ میں جہاد کریں گے۔ ملامت کر نے والوں کی ملامت سے وہ نہیں ڈریں گے۔ یہ اللہ کا فضل ہے۔ وہ جسے چاہتا ہے اسے عطا کرتا ہے۔اللہ بڑی وسعت والا ، جاننے والا ہے۔ 

55۔ اللہ اور اس کے رسول ، اوروہ مومن جو نماز قائم کرتے ہیں، زکوٰۃ ادا کرتے ہیں اور رکوع کرتے ہیں، یہی تمہارے مددگار ہیں۔ 

56۔ اللہ، اس کے رسول اور مومنوں کو سرپرست بنا نے والی اللہ کی جماعت ہی فتح پانے والی ہے۔ 

57۔ اے ایمان والو! تم سے پہلے کتاب 27دئے گئے لوگوں میں سے، (اللہ کا) انکار کرنے والوں میں سے، تمہارے دین کی مذاق اڑانے والے اور اس کو کھیل تماشہ بنانے والوں میں سے کسی کو اپنا خاص دوست نہ بناؤ89۔اگر تم ایمان والے ہو تو اللہ سے ڈرو۔

58۔ جب تم نماز کے لئے بلاتے ہو تو اسے وہ مذاق اور کھیل تماشہ کی طرح اٹھا لیتے ہیں۔ یہ اس لئے کہ وہ ناسمجھ قوم ہیں۔ 

59۔کہہ دو کہ اے اہل کتاب27! ہم نے اللہ پر ، ہم پر جو نازل کیا گیا ہے اس پراور اس سے پہلے جو کچھ اتارا گیا تھا 4اس پر ایمان لانے کی وجہ کے سوا تم ہمیں کس وجہ سے نفرت کر رہے ہو؟ تم میں اکثر لوگ مجرم ہو۔

60۔ کہو کہ اللہ کے نزدیک اس سے بھی بدتر بدلہ پانے والوں کو کیا میں تمہیں بتاؤں؟ اللہ نے جن پر لعنت کی6، جن پر اس نے غصہ کیا، جن کو اس نے بندراور سور کی شکلوں میں تبدیل 23کردیا اور جس نے بری طاقتوں کی پرستش کی وہی لوگ بدتر جگہ کے قابل ہیں۔ اور سیدھے راستے سے بھٹکے ہوئے ہیں۔ 

61۔ جب وہ تمہارے پاس آتے ہیں تو کہتے ہیں کہ ہم ایمان لائے۔ وہ لوگ (دل میں اللہ کا) انکارلئے ہوئے آئے تھے، اسی کیساتھ وہ چلے بھی گئے۔ جو کچھ وہ چھپاتے ہیں اللہ خوب جانتاہے.

62۔ ان میں سے اکثر لوگوں کو تم گناہ کے لئے، سرکشی کے لئے اور حرام چیزیں کھانے کے لئے دوڑتے ہوئے دیکھوگے۔ وہ جو کرتے ہیں بہت برا ہے۔ 

63۔ ان کے گناہوں کی باتوں سے اورحرام چیزیں کھانے سے عبادت گزارلوگ اور علماء انہیں کیوں نہیں روکتے؟ وہ جو کرتے ہیں بہت برا ہے۔ 

64۔ یہود کہتے ہیں کہ اللہ کا ہاتھ بندھا ہوا ہے۔ بلکہ انہیں کے ہاتھ بندھے ہوئے ہیں۔ ان کی اس قول کی وجہ سے ان پر لعنت کی گئی ہے۔ بلکہ اس کے دونوں ہاتھ کھلے ہوئے ہیں۔ وہ جس طرح چاہے عطا کر تا ہے۔ تمہارے رب کی طرف سے تم پر جو اتارا گیا ہے ، ان میں سے اکثر لوگوں میں (اللہ کا) انکار اور سرکشی بڑھا دیا ہے۔ قیامت کے دن1 تک ان کے درمیان عداوت اور بغض پیدا کر دیا ہے99۔ جب بھی وہ جنگ کی (جیسی) آگ بھڑکاتے ہیں اللہ اسے بجھا دیتا ہے۔ وہ لوگ زمین میں فساد مچاتے ہیں۔ فساد مچانے والوں کو اللہ پسند نہیں کرتا۔ 

65۔اگر اہل کتاب27 ایمان لاتے اور (اللہ سے) ڈر کر چلے ہوتے تو ان سے ان کے گناہوں کو ہم برطرف کردیتے۔ انہیں مسرت بھری جنت کے باغوں میں داخل کردئے ہوتے۔

66۔ اگر و ہ تورات اور انجیل491 کی اور ان کے رب کی طرف سے جونازل کی گئی اس کی پابند کئے ہوتے تو ان کے (سروں کے) اوپر سے اور پاؤں کے نیچے سے (جو ملاہوتا) وہ کھائے ہوتے۔ ان میں نیک جماعت بھی ہے۔ ان میں اکثر لوگوں کی عمل بہت بری ہے۔ 

67۔ اے رسول! تمہارے رب کی طرف سے جو تم پر نازل ہوا ہے اس کو بیان کردو۔ اگر تم (ایسا) نہ کروگے تو اس کے پیغام کو پہنچانے والے نہیں ہوں گے۔ اللہ تمہیں لوگوں سے بچائے رکھے گا145۔ اللہ ( اس کے) انکار کرنے والی قوم کو راستہ نہیں دکھاتا۔ 

68۔ کہہ دو کہ اے اہل کتاب27! اگر تورات اور انجیل491 کو اور تمہارے رب کی طرف سے جونازل کی گئی اس کو ، جب تک تم قائم نہیں کروگے تم کسی میں شامل نہیں۔ تمہارے رب کی طرف سے تم پر جواتاری ہوئی (یہ کتاب)ہے، ان میں سے اکثر لوگوں کو (اللہ کا) انکار اور سرکشی میں بڑھا دیا ہے۔ پس (اللہ کا)انکار کرنے والے لوگوں کے لئے تم فکر نہ کرو۔ 

69۔ مومنوں ، یہودیوں، صابیوں443اور عیسائیوں میں اللہ اور آخرت کے دن پرایمان لانے اور نیک عمل کرنے والوں کو کوئی خوف نہیں ہوگا اور وہ غمگین بھی نہیں ہوں گے۔ 

70۔ بنی اسرائیل سے ہم نے عہد لیا تھا22، اوران کے پاس رسولوں کو بھی بھیجا۔ جب بھی کوئی رسول ان کی ناپسند یدگی کو لے آتا تو انہوں نے بعض کی تکذیب کی اور بعض کو قتل کر ڈالا۔ 

71۔ وہ سمجھ گئے کہ کوئی آزمائش نہیں ہوگی۔ اس لئے وہ اندھے اور بہرے بن گئے۔ پھر بھی اللہ نے انہیں معاف کردیا۔ اس کے بعد بھی ان میں اکثر اندھے اور بہرے بن گئے۔ جو کچھ وہ کررہے ہیں اللہ دیکھ رہا ہے۔ 488

72۔ مریم کا بیٹا مسیح92 ہی اللہ ہے، کہنے والے (اللہ کا) انکار کردیا459۔ مسیح92 نے کہا کہ اے بنی اسرائیل! میرا اور تمہاراپروردگار اللہ کی عبادت کرو۔ اللہ کا شریک ٹہرانے والوں کو اللہ نے جنت حرام کردیا۔ وہ لوگ پہنچنے کی جگہ دوزخ ہے۔ ظلم کرنے والوں کا کوئی مددگار نہیں۔ 

73۔ تین (معبودوں) میں اللہ بھی ایک ہے، کہنے والے (اللہ کا) انکار کرنیوالے ہوگئے459۔ ایک ہی اللہ کے سوا عبادت کے لائق (اور) کوئی نہیں۔اگر وہ اپنے قول سے باز نہیں آئے تو (اللہ کا) انکار کرنے والوں کو دردناک عذاب آپہنچے گا۔

74۔ کیاوہ اللہ کی طرف پلٹ کر اس سے توبہ نہیں چاہیں گے؟ اللہ بخشنے والا ، نہایت ہی رحم والا ہے۔ 

75۔ مریم کے بیٹے مسیح92 ایک رسول کے سوا کچھ نہیں459۔ ان سے پہلے کئی رسول گزر چکے101۔ ان کی ماں ایک راست باز تھیں۔ وہ دونوں کھانا کھانے والے تھے۔ ان کے لئے ہم نے کس طرح دلیلیں واضح کیں، غور کریں۔ پھر وہ کس طرح رخ موڑ دئے جاتے ہیں، اس پر بھی غور کرو۔ 

76۔ کہو کہ اللہ کے سوا تمہیں کچھ نیکی یا بدی پہنچانے کی طاقت نہ رکھتا ہو، کیا تم ان کی عبادت کر تے ہو؟ اللہ ہی سننے والا488، جاننے والا ہے۔ 

77۔ کہہ دو کہ اے اہل کتاب27! تم اپنے دین میں سچائی کے خلاف (کہہ کر) حد پار نہ کرو۔ اس سے پہلے جو خود بھی گمراہ ہوئے ، بہت سے لوگوں کوبھی گمراہ کیا اورسیدھی راہ چھوڑ کر راہ راست سے بھٹک گئے، ان لوگوں کے خواہشات کی پیروی نہ کرو۔ 

78۔ داؤد اور مریم کے بیٹے عیسیٰ کی زبان سے (اللہ کا) انکار کرنے والے بنی اسرائیل لعنت کئے گئے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ نافرمانی کرتے تھے اور حد سے بڑھ جاتے تھے۔ 

79۔ وہ جو برے کام کر رہے تھے، اس سے ایک دوسرے کو نہیں روکتے تھے۔ وہ جو کر رہے تھے بہت برا تھا۔ 

80۔ ان میں اکثر لوگوں کو تم دیکھو گے89 کہ (اللہ کا) انکار کرنے والوں کووہ اپنا سرپرست بنالیتے ہیں۔ وہ اپنے لئے جو تیار کیا ہے وہ برا ہے۔ ان پر اللہ ناراض ہوا۔ عذاب میں وہ ہمیشہ رہیں گے۔ 

81۔ اگر وہ اللہ پر،اس نبی (محمد) پر اور ان پر جو نازل ہو ا ہے اس پرایمان لائے ہوتے تو وہ ان کو اپنا سرپرست نہ بنائے ہوتے89۔ لیکن ان میں سے اکثر لوگ جرم کر نے والے ہیں۔ 

82۔ (اے محمد!) لوگوں میں یہودیوں اور مشرکوں ہی کوتم ایمان والوں کاسخت دشمن پاؤگے۔ جن لوگوں نے کہا کہ ہم عیسائی ہیں ، ان لوگوں کوتم مومنوں سے سب سے زیادہ قریبی دوست پاؤگے147۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ان میں پادری اور راہب ہیں اور وہ تکبر نہیں کرتے۔ 

پارہ نمبر 7

83۔ اس رسول (محمد) پر جو کچھ نازل ہو ا ہے جب وہ سنتے ہیں تو تم دیکھو گے کہ حق کو پہچان لینے کی وجہ سے ان کی آنکھوں میں آنسو بہتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ اے ہمارے پروردگار! ہم ایمان لائے۔ پس تو ہمیں گواہی دینے والوں میں سے لکھ لے۔

84۔ (وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ) اللہ پر اور جو سچائی ہمیں پہنچی ہے اس پر ایمان نہ لا نے کے لئے ہمیں کیا (رکاوٹ) ہے؟ ہم یہ آرزو رکھتے ہیں کہ اللہ ہمیں بھی نیک لوگوں کی رفاقت میں رکھے۔ 

85۔ وہ (اس طرح) کہنے کی وجہ سے اللہ انہیں جنت کے باغات کا انعام عطا کیا۔اس کے نچلے حصہ میں نہریں بہتی ہوں گی۔ اس میں وہ ہمیشہ رہیں گے۔یہی نیک عمل کرنے والوں کا بدلہ ہے۔ 

86۔ جو (ہمیں) انکار کیا اور ہماری آیتوں کا تکذیب کیا وہی جہنمی ہے۔ 

87۔ اے ایمان والو! اللہ جو چیزیں تمہارے لئے حلال کی ہیں انہیں حرام نہ ٹہراؤ۔ حد سے نہ بڑھو۔ حد سے بڑھنے والوں کو اللہ پسند نہیں کرتا۔ 

88۔اللہ نے تم کو جو حلال اور پاکیزہ چیزیں دی ہیں، وہ کھاؤ۔ جس پر تم نے ایمان لائے ہو، اسی اللہ سے ڈرو۔ 

89۔ تمہاری قسموں میں لغو قسموں کے لئے اللہ تمہیں سزا نہیں دے گا۔ بلکہ منصوبہ بندی سے کئے جانے والے قسموں ہی کے لئے وہ تمہیں سزا دے گا۔ اس کاکفارہ، تم اپنے گھر والوں کو جو کھلاتے ہو اس کے درمیانی درجے کا کھانا دس غریبوں کو کھلانا ہے یا انہیں کپڑے دینا ہے یا ایک غلام آزاد کر نا ہے64۔جس کو(ان میں سے کچھ بھی)میسر نہ ہو تو وہ تین دن کے روزے رکھنا چاہئے۔ اگر تم قسم کھا(کر توڑد)ئے تواس قسم کا کفارہ یہی ہے۔ اپنی قسموں کی حفاظت کرو۔ تم شکر ادا کر نے کے لئے اللہ اسی طرح اپنی آیتوں کو واضح کر تا ہے۔ 

90۔اے ایمان والو! شراب116، جوا، قربان گاہیں135 اور (فال نکالنے کے)پانسے136، سب نفرت انگیزاور شیطان کے کارنامے ہیں۔ پس ان سے الگ ہوجاؤ، کامیاب پاؤگے۔ 

91۔شیطان چاہتا ہے کہ شراب اور جوے کے ذریعے تمہارے درمیان عداوت اور نفرت پیدا کرے، اللہ کی یاد سے اور نماز سے تمہیں روک دے۔ کیا تم باز نہیں آؤگے؟ 

92۔ اللہ کی اطاعت کرو اور اس رسول (محمد) کی بھی اطاعت کرو۔ احتیاط سے رہا کرو۔ اگرتم جھٹلاؤگے توجان لو کہ اسے واضح طور پر سمجھا دینا ہی ہمارے رسول کا ذمہ 81ہے۔ 

93۔ جو (اللہ سے) ڈرے، ایمان لائے اور نیک عمل کرے، پھر ڈرے، ایمان لائے پھر بھی ڈرے اور نیک عمل کرے تو (اس سے پہلے جو حرام) چیزیں کھائے ہوں تو ایمان لاکر نیک عمل کر نے والوں پر کوئی گناہ نہیں۔ نیک کام کرنے والوں کو اللہ پسند کرتا ہے۔ 

94۔ اے ایمان والو! یہ علامت دکھا نے کے لئے کہ تنہائی میں (اللہ سے) ڈرنے والے کون ، (جب تم احرام کی حالت میں ہو تو) تمہارے ہاتھ اور نیزوں سے قریب کچھ شکاری جانوروں کو دکھا کر اللہ تمہیں آزمائے گا484۔ اس کے بعد حد سے بڑھنے والوں کو دردناک عذاب ہے۔ 

95۔ اے ایمان والو! احرام کی حالت میں شکار کو قتل نہ کرو۔ اگر تم میں کوئی جان بوجھ کر اسے قتل کرے تو اس جانور کا ہم پلہ جانور (بکری، بیل اور اونٹ وغیرہ) اس کا کفارہ ہوگا۔ وہ کعبہ کوپہنچنے والا نیاز (کا جانور) یا کفارے کے طور پر غریبوں کو کھاناکھلانا ہے۔ یا اس کے برابر روزے رکھے۔ تم میں دو معتبر عادل اس کے بارے میں فیصلہ کریں۔ اپنے کام کا انجام پانے کے لئے(یہ ضروری ہے)۔ اس سے پہلے جو ہوچکا اللہ اس کو معاف کردیا۔ پھر کر نے والے کو اللہ سزا دے گا۔ اللہ زبردست ، سزا دینے والا ہے۔ 

96۔ تمہارے لئے اور دوسرے مسافروں کے لئے فائدہ حاصل ہو، سمندر میں شکار کرنا اور اس میں کا کھانا تمہارے لئے حلال کردیا گیا ہے42۔ احرام کی حالت میں ہو تو زمین میں شکار کرنا حرام کر دیا گیا ہے۔اللہ سے ڈرو۔ اسی کے پاس تم جمع کئے جاؤگے۔ 

97۔ حرمت والا گھر کعبہ، حرمت والے مہینے55، قربانی کے جانور، اور(اس کے گلے میں پہنانے والے) پٹے، ان تمام کو لوگوں کے لئے اللہ نے قائم رہنے والا بنادیا34۔ یہ اس لئے( کہا جا رہا ہے کہ) تم جان لو کہ جو کچھ آسمانوں507 میں ہے اور زمین میں ہے ، اللہ جانتاہے اور اللہ ہر چیز سے واقف ہے۔ 

98۔ اور جان لو کہ اللہ سخت سزا دینے والا ہے، اللہ بخشنے والا، نہایت ہی رحم والا بھی ہے۔ 

99۔ سمجھانے کے سوا اس رسول پر دوسرا کچھ (ذمہ ) نہیں ہے81۔ تم جو کچھ ظاہر کرتے ہو اور چھپاتے ہواللہ سب جانتا ہے۔ 

100۔ کہہ دو کہ اچھا اوربُرا برابر نہیں ہوسکتا۔ اگر چہ بُرا تمہیں بہت زیادہ بھی گرویدہ کرے۔اے عقلمندو! اللہ سے ڈرو، کامیابی حاصل کروگے۔

101۔ اے ایمان والو! بعض باتوں کے بارے میں سوال نہ اٹھاؤ۔اگر وہ تم پر ظاہرکیاجائے تو تمہیں ضرر پہنچائے گی۔ قرآن نازل ہوتے وقت ان کے متعلق سوال کروگے تو وہ تمہیں ظاہر کردی جائے گی150۔ ان کو اللہ نے معاف کردیا۔ اللہ بخشنے والا، بردبار ہے۔

102۔ تم سے پہلے گزرے ہوئے قوم نے ایسے سوال کئے تھے۔ پھر انہوں نے ان کے منکر ہوگئے۔

103۔ اللہ نے بحیرہ، سائبہ، وصیلہ اور حام کو مقرر نہیں کیا148۔ بلکہ (اللہ کا) انکار کر نے والے اللہ پر جھوٹ باندھتے ہیں۔ان میں سے اکثر نہیں سمجھتے۔ 

104۔ جب ان سے کہا جائے کہ جو کچھ اللہ نے نازل کیا ہے، اس کی طرف اور اس رسول کی طرف آؤ تو وہ کہتے ہیں کہ ہمارے آباؤ اجدا کو ہم جس طریقے میں دیکھا ہے وہی ہمارے لئے کافی ہے۔ کیا ان کے آباؤ اجدا کچھ بھی نہ جانتے ہوں اورسیدھی راہ نہ پائے ہوں، تب بھی؟ 

105۔ اے ایمان والو! اپنی حفاظت کرلو۔ جب تم سیدھی راہ پر چل رہے ہو تو گمراہ شخص تمہیں کوئی ضرر نہیں پہنچا سکتا۔تم سب اللہ ہی کی طرف لوٹنے والے ہو۔ جو کچھ تم کر رہے تھے ، اس کے بارے میں وہ تمہیں (اس وقت) بتائے گا۔ 

106۔ اے ایمان والو! تم میں سے کسی کو موت آجائے اور وہ وصیت کرے تو تم میں سے دو معتبر آدمی اس کے گواہ رہنا چاہئے45۔ جب تم زمین میں سفر کر رہے ہواور موت کی مصیبت آپہنچے تو غیر لوگوں میں سے دو آدمیوں کو گواہ بنا سکتے ہو۔ اگر تم (ان پر) شک کرو تو نماز کے بعد ان دونوں کو روکے رکھو۔ وہ دونوں اللہ کی قسم کھاکر کہنا چاہئے کہ اس (گواہی) کوکسی قیمت پر نہیں بیچیں گے، اگرچہ وہ قریبی رشتہ دار بھی ہوں۔ اللہ کی گواہی کو چھپائیں گے بھی نہیں۔ اگر چھپائے تو ہم گناہ گار ہوں گے۔ 

107۔ اگر یہ معلوم ہوجائے کہ وہ دونوں (جھوٹی گواہی دے کر) گناہ کے مرتکب ہوئے ہیں تو جن لوگوں کے خلاف انہوں نے گواہی دی ہے ان لوگوں میں سے دو ، ان دونوں کے مقام میں کھڑے ہوجائیں اور اللہ کی قسم کھ اکر کہنا چاہئے کہ ہماری گواہی ان دونوں کی گواہی سے زیادہ سچا ہے اور ہم حد سے تجاوز نہیں کئے۔ (اگر ایسا ہو تو) ہم ظالموں میں سے ہوں گے۔

108۔ ٹھیک طور سے گواہی کہنے یا اپنا قسم (دوسروں سے) انکار کیا جانے سے ڈرنے یہی مناسب راستہ ہے۔ اللہ سے ڈرو اور سنو! جرم کر نے والے لوگوں کو اللہ سیدھا راستہ نہیں دکھاتا۔ 

109۔ رسولوں کو اللہ جمع کر نے کے دن1 پوچھے گا کہ تمہیں کیا جواب دیا گیا ؟ وہ کہیں گے کہ ہمیں (اس بارے میں) کوئی علم نہیں۔تو ہی غیب کی باتیں جاننے والا ہے۔ 

110۔ یاد دلائیے جب اللہ نے (عیسیٰ سے) کہا کہ اے مریم کے بیٹے عیسیٰ!یاد کرو جب میں نے تم پراورتمہاری والدہ پرجونعمت نازل کیا تھا اور روح القدس 444کے ذریعہ تمہیں قوت دی تھی۔ تم نے جھولے میں اور جوانی میں لوگوں سے باتیں کیں۔اور یہ بھی یاد کرو کہ تمہیں کتاب، حکمت67، تورات اور انجیل 491میں نے سکھائی ۔اور یہ بھی یاد کرو کہ تم نے میری مرضی کے مطابق مٹی سے پرندے کی شکل بناتے اور اس میں پھونک مارتے تھے۔ میری مرضی کے مطابق وہ پرندہ بن گیا تھا۔ میری مرضی کے مطابق269 پیدائشی اندھے اور جذامی کو تم نے صحت یاب کردیا تھا۔ اور یہ بھی یاد کرو کہ تم نے مردوں کو میری مرضی کے مطابق 269(زندہ) نکال ظاہرکیا تھا۔اور یہ بھی یاد کرو کہ بنی اسرائیل کے پاس تم نے واضح دلیلیں لے آئے تھے۔ تو (اللہ کا) انکار کرنے والوں نے کہا تھا کہ یہ صریح جادو کے سوا کچھ نہیں285۔ان سے میں نے ہی تمہیں بچایا تھا۔ 

111۔ جب میں نے (عیسیٰ کے) شاگردوں کو اطلاع دی کہ مجھ پر اور میرے رسولوں پر ایمان لے آؤتو انہوں نے کہا کہ ہم ایمان لائے اورتم ہی گواہ رہو کہ ہم مسلم295 ہیں۔ 

112۔ جب حواریوں نے کہا کہ اے مریم کے بیٹے عیسیٰ! آسمان سے کھانے کا خوان اتارنے کے لئے کیا تمہارے پروردگار سے ہوسکتاہے؟اس نے کہا کہ اگر تم ایمان رکھتے ہو تو اللہ سے ڈرو۔

113۔ وہ کہنے لگے کہ اس میں سے کھائیں، ہمارے دل مطمئن ہوجائے، ہم یہ جان جائیں کہ تم نے ہم سے سچ ہی کہا ہے اور ہم یہ چاہتے ہیں کہ تم اس پر گواہ ہوجائیں۔ 

114۔ مریم کے بیٹے عیسیٰ نے کہا کہ اے اللہ!اے ہمارے پروردگار! آسمان سے ہمیں کھانے کا خوان اتاردے۔ وہ ہم میں سے پہلے آدمی کے لئے اورہم میں سے آخری آدمی کے لئے عید کادن اور تیری طرف سے ایک دلیل ہوجائے۔ ہمیں رزق عطا فرما۔ رزق دینے والوں میں تو ہی سب سے بہتر ہے۔ 

115۔ اللہ نے فرمایا کہ تمہارے لئے میں اس کو اتاروں گا۔ اس کے بعد اگر کوئی (مجھے) انکار کرے تو میں ایسی سزا دوں گا جو اس دنیا میں کسی کو نہ دی گئی ہوگی۔ 

116۔ (آخرت میں ) جب اللہ پوچھے گا: اے مریم کے بیٹے عیسیٰ! کیا تم نے لوگوں سے کہا تھا 459کہ اللہ کے سوا مجھے اور میری ماں کو خدا بنالو؟ تو وہ جواب دیں گے کہ تو پاک ہے10، جو میرے لائق نہ ہو ایسی باتیں کہنے کا مجھے حق نہیں ہے۔ اگر میں ایسا کہا ہو گا تو تجھے اس کا علم ہوگا۔ مجھ میں کیا ہے تو جانتا ہے۔ تجھ میں کیا ہے ، میں نہیں جانتا۔ تو ہی غیب کی باتوں کو جاننے والا ہے۔ 

118,117۔ (اس نے یہ بھی کہا26کہ) جس طرح تو نے مجھے حکم دیا تھا ، اسی طرح میں نے ان سے کہدیا اس کے سوا دوسرا کچھ بھی نہیں کہا کہ اللہ کی بندگی کرو جو میرا بھی رب ہے اور تمہارا بھی رب ہے۔ میں جب ان کے ساتھ تھا تو میں ان کا نگران تھا۔ پھر جب تو نے مجھ پر قبضہ کرلیا تو تو ہی ان کا نگہبان رہا۔ تو ہر چیز کا نگہبان ہے151۔ انہیں تو سزا دے تو وہ تیرے بندے ہیں۔ اگر تو انہیں معاف کردے تو تو زبردست، حکمت والا ہے۔ 

119۔ اللہ کہے گا کہ یہ سچ بولنے والوں کو ان کا سچ کام آنے کا دن1 ہے۔ ان کے لئے جنت کے باغات ہیں، ان کے نچلے حصہ میں نہریں بہتی ہوں گی۔ اس میں وہ ہمیشہ رہیں گے۔ اللہ ان سے راضی ہوگیا، وہ بھی اللہ سے راضی ہوگئے۔ یہی بہت بڑی کامیابی ہے۔ 
120۔ آسمانوں507 ، زمین اور ان میں جو کچھ ہے سب کی بادشاہی اللہ ہی کے لئے ہے۔وہ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے۔ 

பகிர்

பதிலளி

உங்கள் கருத்துகளை பதிவிடுங்கள்
உங்கள் பெயர்